Frequently Asked Questions
Answers to common questions about بیٹنگ نوٹس.
01 بیٹنگ نوٹس کیا لائسنس یافتہ ہے اور کس ادارے کی نگرانی میں ہے؟
+
جی ہاں، بیٹنگ نوٹس کو کرکٹ بیٹنگ کے لیے باضابطہ لائسنس دی گئی ہے اور یہ آن لائن گیمبلنگ کمیشن (جی بی سی) کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔ لائسنس نمبر اور سالانہ آڈٹ رپورٹ ہماری ویب سائٹ کے فوٹر میں دستیاب ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری تمام سرگرمیاں بین الاقوامی قواعد و ضوابط کے مطابق ہیں۔
02 بیٹنگ نوٹس پر اکاؤنٹ کیسے بنایا جاتا ہے اور شناخت کی تصدیق کیوں ضروری ہے؟
+
اکاؤنٹ بنانے کے لیے ای میل، موبائل نمبر اور ایک مضبوط پاس ورڈ درکار ہوتا ہے۔ کریڈٹ کارڈ یا بینک ٹرانسفر سے رقم منتقلی کے لیے حکومتی شناختی دستاویز (قومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ) کی تصدیق لازمی ہے، جو غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے اور آپ کی ذاتی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے کی جاتی ہے۔ تصدیق عام طور پر 24 گھنٹے کے اندر مکمل ہو جاتی ہے۔
03 بیٹنگ نوٹس پر کم از کم جمع اور نکلوانے کی حد کیا ہے؟
+
جمع کرانے کی کم از کم حد 500 روپے ہے، جبکہ ایک بار میں زیادہ سے زیادہ 50,000 روپے تک جمع کرا سکتے ہیں۔ نکلوانے کی کم از کم حد 1,000 روپے ہے اور یہ عام طور پر 24 تا 48 گھنٹے میں آپ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔
04 بیٹنگ نوٹس پر PSL میچ پر بیٹنگ کے مختلف مارکیٹس — میچ جیت، ٹاپ بیٹسمین، سیشن بیٹ — کیسے کام کرتے ہیں؟
+
میچ جیت بیٹ میں آپ کسی ٹیم کو مکمل میچ جیتنے پر شرط لگاتے ہیں۔ ٹاپ بیٹسمین بیٹ میں آپ کسی کھلاڑی کو میچ کا سب سے زیادہ رنز بنانے والا منتخب کرتے ہیں، جبکہ سیشن بیٹ میں ایک مخصوص اوور کی رنز کی تعداد پر شرط لگائی جاتی ہے۔ ہر مارکیٹ کے لیے مختلف ایڈجوڈیکیٹڈ اوقات اور امکانات (اکثر 1.85 سے 2.50) ہوتے ہیں۔
05 بیٹنگ نوٹس پر میری ذاتی معلومات اور فنڈز کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جاتی ہے؟
+
ہم TLS 1.3 انکرپشن اور دو قدم تصدیق (2FA) کا استعمال کرتے ہیں تاکہ آپ کا ڈیٹا اور لین دین محفوظ رہے۔ فنڈز الگ الگ کلائنٹ اکاؤنٹس میں رکھے جاتے ہیں اور بینک کی سطح کی سیکیورٹی کے ساتھ محفوظ ہوتے ہیں۔
06 بیٹنگ نوٹس پر کسٹمر سپورٹ سے کیسے رابطہ کروں اور شکایات کیسے درج کروائیں؟
+
آپ ہماری ویب سائٹ پر لائیو چیٹ، ای میل ([email protected]) یا واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ شکایت درج کرانے کے لیے 'میری مدد' سیکشن میں ٹکٹ کھولیں؛ ہر ٹکٹ کو 24 گھنٹے کے اندر حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔